حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس اعلٰی اسلامی عراق نے عراق پر امریکی۔سعودی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ملک میں استحکام، اقتصادی بحالی اور خطے میں عراق کے مثبت کردار کو سبوتاژ کرنا ہے۔
مجلس اعلٰی اسلامی عراق کے ترجمان علی فاضل الدفاعی نے بیان میں کہا کہ سرکاری سکیورٹی فورس حشد الشعبی کو نشانہ بنانا، جس میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے، ناقابلِ قبول اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب عراقی حکومت خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کا آغاز کر رہی تھی اور حال ہی میں وزیراعظم کے دورۂ امریکہ کے دوران 48 اقتصادی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی ہوئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی خطے کے ممالک کے درمیان بیرونی مداخلت سے آزاد مشترکہ تعاون کو ناکام بنانے اور عراق کے امن، اقتصادی ترقی اور علاقائی مصالحتی کردار کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
علی فاضل الدفاعی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس حملے سے نہ عراقی سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست ہوں گے، نہ عوام کے عزم کو نقصان پہنچے گا، بلکہ تمام سازشیں عراقی قوم کے عزم کے سامنے ناکام ہوں گی۔ انہوں نے شہدائے حشد الشعبی کے لیے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔









آپ کا تبصرہ